Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1850 (مشکوۃ المصابیح)
[1850] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (653) ٭ مجالد بن سعید: ضعیف من جھۃ سوء حفظہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِہِ مَالَہُ: كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْہِہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُہُ مِنْ جَہَنَّمَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُلْ وَمَنْ شَاءَ فليكثر . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
حبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مال دار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے نہ کام کرنے کی طاقت رکھنے والے صحیح الخلقت شخص کے لیے،البتہ اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جو انتہائی محتاج ہو یا تاوان تلے دب گیا ہو،اور جو شخص اپنا مال بڑھانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا ہے تو روز قیامت اس کے چہرے پر خراش ہو گی،اور وہ جہنم میں گرم پتھر کھائے گا،جو چاہے کم کرے جو چاہے زیادہ کرے۔‘‘ اسنادہ ضعیف۔