Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1923 (مشکوۃ المصابیح)

[1923] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (3369) ہ الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ، تقدم (29)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أنس بن مَالك عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((لَمَّا خَلَقَ اللہُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَقَالَ بِہَا عَلَيْہَا فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ فَقَالُوا يَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ قَالَ نعم الْحَدِيد قَالُوا يَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمِ النَّارُ فَقَالُوا يَا رب ہَل من خلقك شَيْء أَشد من النَّار قَالَ نعم المَاء قَالُوا يَا رب فَہَل مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ قَالَ نَعَمِ الرِّيحُ فَقَالُوا يَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ قَالَ نَعَمِ ابْن آدم تصدق بِصَدقَة بِيَمِينِہِ يخفيہا من شِمَالِہِ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ: ((الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ)) . فِي كتاب الْإِيمَان

انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جب اللہ نے زمین پیدا فرمائی تو وہ ہلنے لگی،تو پھر اس نے پہاڑ پیدا کیے اور انہیں اس (زمین) پر رکھنے کا حکم فرمایا تو وہ ٹھہر گئی،فرشتوں کو پہاڑوں کی شدت پر تعجب ہوا تو انہوں نے عرض کیا: رب جی! کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے شدید تر کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں،لوہا،تو انہوں نے پھر عرض کیا،رب جی! کیا تیری مخلوق میں لوہے سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں،آگ،انہوں نے عرض کیا،کیا تیری مخلوق میں آگ سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں،پانی،انہوں نے عرض کیا: رب جی! کیا تیری مخلوق میں پانی سے شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں،ہوا،پھر انہوں نے عرض کیا: رب جی! کیا تیری مخلوق میں ہوا سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں،وہ ابن آدم جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے تو اسے اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھتا ہے۔‘‘ ترمذی،اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے،اور معاذ ؓ سے مروی حدیث:’’صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہے۔‘‘ کتاب الایمان میں ذکر کی گئی ہے۔اسنادہ حسن،رواہ الترمذی۔