Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1954 (مشکوۃ المصابیح)
[1954] متفق علیہ، رواہ البخاري (1490) و مسلم (1622/7)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللہِ فَأَضَاعَہُ الَّذِي كَانَ عِنْدَہُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَہُ وَظَنَنْتُ أَنَّہُ يَبِيعُہُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ((لَا تَشْتَرِہِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَہُ بِدِرْہَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِہِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِہِ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِہِ كالعائد فِي قيئہ))
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے کسی شخص کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا بطور سواری عطا کیا تو اس نے اسے ضائع کر دیا،میں نے اسے خریدنا چاہا اور مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے ارزاں نرخوں پر فروخت کر دے گا،میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے خریدو،نہ اپنا صدقہ واپس لو خواہ وہ اسے ایک درہم میں تمہیں عطا کرے،کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹ جاتا ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے:’’اپنا صدقہ واپس نہ لے،کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا،اپنی قے چاٹنے والے کی طرح ہے۔‘‘ متفق علیہ۔