Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2012 (مشکوۃ المصابیح)

[2012] صحیح، رواہ أبو داود (2369) و ابن ماجہ (1681) والدارمي (14/2ح 1737) [وانظر شرح السنۃ 304/6 بعد ح 1759]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَتَی رَجُلًا بِالْبَقِيعِ وَہُوَ يَحْتَجِمُ وَہُوَ آخِذٌ بِيَدِي لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَہُ اللہُ عَلَيْہِ: وَتَأَوَّلَہُ بَعْضُ مَنْ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ: أَيْ تَعَرُّضًا لِلْإِفْطَارِ: الْمَحْجُومُ لِلضَّعْفِ وَالْحَاجِمُ لِأَنَّہُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَصِلَ شَيْءٌ إِلَی جَوْفِہِ بمص الملازم

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے جب کہ وہ پچھنے لگوا رہا تھا،آپ میرا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور رمضان کی اٹھارہ تاریخ تھی۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پچھنے لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔‘‘ ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی۔الشیخ الامام محی السنہ نے فرمایا: اور جن بعض حضرات نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے،انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ پچھنے لگوانے والا کمزوری کی وجہ سے افطار کے قریب پہنچ جاتا ہے،جب کہ پچھنے لگانے والا اس چوسنے کی وجہ سے پیٹ میں کوئی چیز پہنچنے سے بچ نہیں سکتا۔صحیح،رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی۔