Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2023 (مشکوۃ المصابیح)
[2023] متفق علیہ، رواہ البخاري (1948) و مسلم (88/ 1113)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ الْمَدِينَةِ إِلَی مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَہُ إِلَی يَدِہِ لِيَرَاہُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّی قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَفْطَرَ. فَمن شَاءَ صَامَ وَمن شَاءَ أفطر
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا،حتیٰ کہ آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اسے ہاتھ سے بلند کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں،پس آپ نے روزہ افطار کر لیا حتیٰ کہ آپ مکہ پہنچ گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے،ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوران سفر) روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے،جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔متفق علیہ۔