Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2067 (مشکوۃ المصابیح)
[2067] متفق علیہ، رواہ البخاري (2004) و مسلم (1130/127)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَدِمَ الْمَدِينَةِ فَوَجَدَ الْيَہُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَا ہَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَہُ؟)) فَقَالُوا: ہَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ: أَنْجَی اللہُ فِيہِ مُوسَی وَقَوْمَہُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَہُ فَصَامَہُ مُوسَی شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوسَی مِنْكُمْ)) فَصَامَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَمَرَ بصيامہ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ان سے دریافت کیا:’’یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،یہ ایک عظیم دن ہے،اللہ نے اس روز موسی ٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات دی جبکہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو موسی ٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی اس روز کا روزہ رکھتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ہم تمہاری نسبت موسی ٰ ؑ کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روز کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔متفق علیہ۔