Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2082 (مشکوۃ المصابیح)

[2082] إسنادہ موضوع، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (3586) [و ابن ماجہ: 1749] ٭ فیہ محمد بن عبد الرحمٰن من شیوخ بقیۃ: کذبوہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن بُرَيْدَة قَالَ: دَخَلَ بِلَالٌ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ يَتَغَدَّی فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الْغَدَاءَ يَا بِلَالُ)) . قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((نَأْكُلُ رِزْقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ أشعرت يَا بِلَال أَن الصَّائِم نُسَبِّح عِظَامہ وَتَسْتَغْفِر لَہُ الْمَلَائِكَةُ مَا أَكَلَ عِنْدَہُ؟)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں،بلال ؓ،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ناشتہ کر رہے تھے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بلال! ناشتہ کر لو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں روزہ سے ہوں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہم اپنا رزق کھا رہے ہیں جبکہ بلال کا عمدہ رزق جنت میں ہے،بلال! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب روزہ دار کے پاس کھایا جائے تو اس کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ اسنادہ موضوع۔