Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2124 (مشکوۃ المصابیح)
[2124] رواہ مسلم (806/254)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِہِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((ہَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَكٌ فَقَالَ ہَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَہُمَا لَمْ يُؤْتَہُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْہُمَا إِلَّا أَعْطيتہ)) . رَوَاہُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،اس دوران کے جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے سر کے اوپر سے زور دار آواز سنی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا:’’یہ آسمان سے پہلی مرتبہ ایک دروازہ کھلا اور اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے،جبریل ؑ نے فرمایا: یہ جو فرشتہ زمین کی طرف نازل ہوا ہے،اس سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا ہے،اس نے سلام عرض کیا،تو کہا: آپ کو دو نوروں کی خوشخبری ہو،وہ آپ ہی کو عطا کیے گئے ہیں،آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے،سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری (تین) آیات،آپ (اور آپ کے متبعین) ان دونوں میں سے جو حرف (دعا) پڑھیں گے وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا۔‘‘ رواہ مسلم۔