Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2154 (مشکوۃ المصابیح)
[2154] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (2890) ٭ قال البیھقي: ’’تفرد بہ یحیی بن عمرو بن مالک وھو ضعیف‘‘(اثبات عذاب القبر: 146 بتحقیقي)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَرَبَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ خِبَاءَہُ عَلَی قَبْرٍ وَہُوَ لَا يَحْسَبُ أَنَّہُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيہِ إِنْسَان يَقْرَأُ سُورَةَ (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِہِ الْمُلْكُ) حَتَّی خَتَمَہَا فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہِيَ الْمَانِعَةُ ہِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے کسی قبر کی جگہ پر اپنا خیمہ نصب کیا جبکہ انہیں پتہ نہیں تھا وہ قبر ہے،اس میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھ رہا تھا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل کیا،پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ مانعہ‘‘ اور ’’منجیہ‘‘ ہے اسے اللہ کے عذاب سے بچائے گی۔‘‘ ترمذی اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔اسنادہ ضعیف۔