Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2176 (مشکوۃ المصابیح)
[2176] إسنادہ ضعیف، رواہ الدارمي (454/2۔ 455 ح 3411، نسخۃ محققۃ: 3451) ٭ أم عبد اللہ عبدۃ بنت خالد بن معدان لم أجد من و ثقھا . حدیث: إنھا تجادل عن صاحبھا فی القبر، رواہ الدارمي (455/2 ح 3413 وسندہ حسن) و حدیث: قال طاووس فضلنا علی کل سورۃ ... رواہ الدارمي (455/2 ح 3425 وسندہ ضعیف) فیہ لیث بن أبي سلیم: ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن خَالِد بن معدان قَالَ: اقرؤوا المنجية وَہِي (آلم تَنْزِيل) فَإِن بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُہَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَہَا وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَہَا عَلَيْہِ قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَہُ فَإِنَّہُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي فَشَفَّعَہَا الرَّبُّ تَعَالَی فِيہِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَہُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَہُ دَرَجَةً . وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّہَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِہَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللہُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيہِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْہُ وَإِنَّہَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَہَا عَلَيْہِ فَتَشْفَعُ لَہُ فَتَمْنَعُہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر وَقَالَ فِي (تبَارك) مثلہ. وَكَانَ خَالِد لَا يَبِيتُ حَتَّی يَقْرَأَہُمَا. وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَی كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاہُ الدَّارمِيّ
خالد بن معدان ؒ بیان کرتے ہیں،منجیہ،(عذاب قبر و حشر سے بچانے والی سورت) جو کہ سورۃ السجدہ ہے،پڑھا کرو،کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک آدمی صرف اسے ہی پڑھا کرتا تھا جبکہ وہ بہت گناہ گار تھا،پس اس (سورت) نے اس پر اپنے پَر بچھا دیے اور عرض کیا،رب جی! اسے بخش دو،کیونکہ وہ مجھے کثرت سے پڑھا کرتا تھا،رب تعالیٰ نے اس کے متعلق اس کی سفارش قبول فرما لی،اور فرمایا:’’اس کی ہر غلطی کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ بلند کر دو۔‘‘ اسنادہ ضعیف۔ اور انہوں (خالد بن معدان) نے یہ بھی کہا:’’وہ اپنے پڑھنے والے کے متعلق قبر میں جھگڑا کرے گی اور کہے گی: اے اللہ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو پھر اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما،اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو پھر مجھے اس سے ختم فرما دے،اور وہ پرندے کی طرح ہو گی اور اس پر اپنے پر پھیلا دے گی،وہ اس کی سفارش کرے گی اور اسے عذاب قبر سے بچا لے گی۔‘‘ اور انہوں (خالد بن معدان) نے سورۃ الملک کے متعلق بھی اسی طرح بیان کیا ہے،اور وہ ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سویا کرتے تھے،اور طاؤس ؒ بیان کرتے ہیں ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں سے فضیلت دی گئی ہے۔