Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2205 (مشکوۃ المصابیح)
[2205] سندہ ضعیف، رواہ الترمذي (2927) [و أبو داود (4001)] ٭ ابن جریج مدلس و عنعن و ابن أبي ملیکۃ لم یسمع من أم سلمۃ و حدیث أحمد (288/6) یغني عنہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَہُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُہُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ اللَّيْثَ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ اللَّيْث أصح
ابن جریج،ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قراءت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے،آپ (الحمد للہ رب العالمین) پڑھتے،پھر وقف فرماتے پھر (الرحمن الرحیم) پڑھتے پھر وقف فرماتے تھے۔ترمذی،اور انہوں نے فرمایا: اس کی سند متصل نہیں،کیونکہ لیث نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ عن یعلی بن مملک عن ام سلمہ ؓ کی سند سے روایت کی ہے،اور لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔سندہ ضعیف۔