Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2222 (مشکوۃ المصابیح)
[2222] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (57/1 ح 399) والترمذي (3086 وقال: حسن) و أبو داود (786) ٭ یزید الفارسي و ثقہ ابن حبان و الترمذي وغیرہما فھو حسن الحدیث و أخطأ من ضعّف ھذا الحدیث .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: قلت لعُثْمَان بن عَفَّان مَا حملكم أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی الْأَنْفَالِ وَہِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَی بَرَاءَةٍ وَہِيَ مِنَ الْمَئِينِ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَہُمَا وَلم تكْتبُوا بَينہمَا سَطْرَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَوَضَعْتُمُوہَا فِي السَّبع الطول مَا حملكم علی ذَلِك فَقَالَ عُثْمَانُ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْہِ الزَّمَان وَہُوَ تنزل عَلَيْہِ السُّور ذَوَات الْعدَد فَكَانَ إِذا نزل عَلَيْہِ الشَّيْء دَعَا بعض من كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُولُ: ((ضَعُوا ہَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيہَا كَذَا وَكَذَا)) فَإِذَا نَزَلَتْ عَلَيْہِ الْآيَةُ فَيَقُولُ: ((ضَعُوا ہَذِہِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيہَا كَذَا وَكَذَا)) . وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ بَرَاءَة من آخر الْقُرْآن وَكَانَت قصَّتہَا شَبيہَة بِقِصَّتِہَا فَظَنَنْت أَنَّہَا مِنْہَا فَقُبِضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَمْ يبين لنا أَنَّہَا مِنْہَا فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَہُمَا وَلِمَ أكتب بَينہمَا سَطْرَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَوَضَعْتُہَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ. رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عثمان ؓ سے کہا: تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا ہے کہ تم نے سورۂ انفال کا قصد کیا جبکہ وہ مثانی (سورتوں میں سے) ہے،اور سورۂ براءت (توبہ) کا قصدکیا جبکہ وہ میٔن (دو سو آیتوں والی سورتوں) میں سے ہے،اور تم نے ان دونوں سورتوں کو ملایا اور تم نے ان کے درمیان (بسم اللہ الرحمن الرحیم) بھی نہیں لکھی،اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھ دیا،ایسا کرنے پر کس چیز نے تمہیں ابھارا؟ عثمان ؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ صورت حال تھی کہ کبھی طویل وقت گزر جاتا اور آپ پر کوئی سورت نازل نہ ہوتی اور متعدد آیات والی سورتیں نازل ہوتیں،اور جب آپ پر کچھ حصہ نازل ہوتا تو آپ کسی کاتب وحی کو بلاتے اور اسے فرماتے:’’ان آیات کو،فلاں سورت میں جہاں فلاں فلاں تذکرہ ہے،شامل کر دو۔‘‘ سورۂ انفال وہ سورت ہے جو قیام مدینہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی،جبکہ سورۂ براءت (توبہ) نزول کے لحاظ سے،نزول قرآن کے آخری دور میں نازل ہوئی،اور بلحاظ مضمون دونوں ایک دوسرے کے مشابہ تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور آپ نے وضاحت نہ فرمائی کہ وہ (سورۂ توبہ) اس (سورۂ انفال) میں سے ہے،اسی لیے میں نے ان دونوں کو ملا لیا اور (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نہ لکھی،اور میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں شامل کیا۔اسنادہ حسن،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد۔