Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2227 (مشکوۃ المصابیح)
[2227] رواہ مسلم (2735/92) [وانظر صحیح البخاري (6340)]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ)) . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعاءَ . رَوَاہُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بندہ جب تک کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے۔‘‘ عرض کیا گیا،اللہ کے رسول! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ کہتا ہے: میں تو بہت دعائیں کر چکا لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی،اس صورت حال میں وہ مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری (۶۳۴۰)۔