Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2268 (مشکوۃ المصابیح)
[2268] رواہ مسلم (2750)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن حَنْظَلَة بن الرّبيع الأسيدي قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بكر فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ: سُبْحَانَ اللہِ مَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كثيرا قَالَ أَبُو بكر: فو اللہ إِنَّا لَنَلْقَی مِثْلَ ہَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللہُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((وَمَا ذَاكَ؟)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيَ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَوْ تَدُومُونَ عَلَی مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَی فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةٌ وَسَاعَةٌ)) ثَلَاث مَرَّات. رَوَاہُ مُسلم
حنظلہ بن ربیع اُسیدی ؓ بیان کرتے ہیں،ابوبکر ؓ مجھے ملے تو انہوں نے پوچھا: حنظلہ! کیسے ہو؟ میں نے عرض کیا: حنظلہ منافق ہو گیا،انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں،وہ جہنم اور جنت (کی ترہیب و ترغیب) کے ذریعے ہمیں نصیحت کرتے رہتے ہیں،گویا ہم خود دیکھ رہے ہیں،اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آ جاتے ہیں اور ازواج و اولاد اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں،اس پر ابوبکر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہماری بھی یہی صورتحال ہے۔میں اور ابوبکر ؓ چلتے گئے حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے،تو میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت ہوتے ہیں تو آپ جنت و دوزخ کے ذریعے ہمیں نصیحت فرماتے ہیں گویا ہم اسے خود آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،اور جب ہم آپ کے پاس سے آ جاتے ہیں،اور اپنے مال بچوں اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہاری جو کیفیت میرے پاس ہوتی ہے اور تم ذکر کی جس صورت میں ہوتے ہو،اگر تمہاری وہ کیفیت ہمیشہ رہے تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا:’’لیکن حنظلہ! کسی وقت ایسے اور کسی وقت ایسے (ہوتا ہے)۔‘‘ رواہ مسلم۔