Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2269 (مشکوۃ المصابیح)
[2269] إسنادہ حسن، رواہ مالک (211/1 ح 493 موقوف) و أحمد (447/6ح 28075، 195/5) والترمذي (3377) و ابن ماجہ (3790)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاہَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِہَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذہبِ والوَرِقِ؟ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟)) قَالُوا: بَلَی قَالَ: ((ذِكْرُ اللہِ)) . رَوَاہُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقفہ علی أبي الدَّرْدَاء
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں تمہارے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو کہ تمہارے مالک کے ہاں اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑھنے والا،تمہارے بلند درجات کا باعث کا بننے والا،تمہارے لیے سونے،اور چاندی کے خرچ کرنے سے بہتر اور تمہارے لیے دشمن سے ایسا جہاد کرنے سے بہتر جس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا،کیوں نہیں! ضرور بتائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ کا ذکر۔‘‘ مالک،احمد،ترمذی اور ابن ماجہ۔البتہ امام مالک نے اسے ابودرداء ؓ پر موقوف قرار دیا ہے۔اسنادہ حسن (رواہ مالک (۱ / ۲۱۱ ح ۴۹۳) و احمد (۶ / ۴۴۷ ح ۲۸۰۷۵،۵ / ۱۹۵) و الترمذی (۳۳۷۷) و ابن ماجہ (۳۷۹۰)۔