Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2281 (مشکوۃ المصابیح)
[2281] لم أجدہ، رواہ البخاري (لم یروہ بھذا اللفظ، إنما ذکر قول ابن عباس قبل ح 4977 (تفسیر سورۃ الناس) بلفظ آخر و أسندہ الضیاء المقدسي فی المختارۃ (367/10 ح 393) عن ابن عباس موقوفًا بلفظ: ’’یولد الإنسان والشیطان جاثم علٰی قلبہ فإذا عقل و ذکر اللہ خنس و إذا غفل وسوس‘‘و سندہ صحیح و رواہ ابن جریر الطبري في تفسیرہ (228/30) والحاکم (541/2 ح 3991) و صححہ ووافقہ الذہبي فالموقوف صحیح وللمرفوع شاھد ضعیف في حلیۃ الأولیاء (268/6) وغیرہ، فیہ عدي بن أبي عمارۃ و زیاد النمیري و ھما ضعیفان .]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلَی قَلْبِ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا ذَكَرَ اللہَ خَنَسَ وَإِذا غفَلَ وسوس)) . رَوَاہُ البُخَارِيّ تَعْلِيقا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’شیطان ابن آدم کے دل کے ساتھ چمٹا رہتا ہے،جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے،اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے۔‘‘ امام بخاری نے اسے معلق روایت کیا ہے۔رواہ البخاری تعلیقا (قبل ح ۴۹۷۷ تفسیر سورۃ الناس) فی المختارۃ (۱۰ / ۳۶۷ ح ۳۹۳) و رواہ ابن جریر الطبری فی تفسیرہ (۳۰ / ۲۲۸) و الحاکم (۲ / ۵۴۱ ح ۳۹۹۱) و حلیہ الاولیاء (۶ / ۲۶۸)۔