Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2283 (مشکوۃ المصابیح)

[2283] ضعیف جدًا، رواہ رزین (لم أجدہ) [و رواہ الحسن بن عرفۃ بسند ضعیف جدًا، انظر الحدیث السابق: 2282]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَفِي رِوَايَةٍ: ((مَثَلُ الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ فِي وَسَطِ الشَّجَرِ وَذَاكِرُ اللہِ فِي الْغَافِلِينَ مَثَلُ مِصْبَاحٍ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَذَاكِرُ اللہِ فِي الْغَافِلِينَ يُرِيہِ اللہُ مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّةِ وَہُوَ حَيٌّ وَذَاكِرُ اللہِ فِي الْغَافِلِينَ يُغْفَرُ لَہُ بِعَدَدِ كُلِّ فَصِيحٍ وَأَعْجَمٍ)) . وَالْفَصِيحُ: بَنُو آدَمَ وَالْأَعْجَمُ: الْبَہَائِم. رَوَاہُ رزين

اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’(اس کی مثال ایسے ہے) جیسے خشک درختوں میں ایک سرسبز درخت ہو۔اور غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والا تاریک کمرے میں چراغ کی طرح ہے۔غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ اس کی زندگی میں اس کا جنت میں مقام دکھا دیتا ہے،اور اللہ،غافلین میں اس کا ذکر کرنے والے کے فصیح و اعجم کی تعداد کے برابر گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘ فصیح سے انسان اور اعجم سے حیوان مراد ہیں۔ضعیف جذا،رواہ رزین (انظر الحدیث السابق: ۲۲۸۲)۔