Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2321 (مشکوۃ المصابیح)
[2321] صحیح، رواہ البیھقي فی الدعوات الکبیر (101/1 ح 135) [و أحمد (298/2، 363) والنسائي فی عمل الیوم واللیلۃ (13 والکبری: 9841) و صححہ الحاکم (21/1) ووافقہ الذہبي وسندہ حسن، عمرو بن میمون صرح بالسماع عند أحمد (298/2) و للحدیث طریق آخر عند أحمد (520/2) والنسائي فی عمل الیوم واللیلۃ (358) والحاکم (517/1) و الحدیث قواہ الحافظ في فتح الباري (501/11)]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَی كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ يَقُولُ اللہُ تَعَالَی: أَسلَمَ عَبدِي واستسلم . رَوَاہُمَا الْبَيْہَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں،جو کہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے،اور وہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے اطاعت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں الدعوات الکبیر میں روایت کی ہیں۔صحیح،رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۰۱ ح ۱۳۵) و احمد (۲ / ۲۹۸،۳۶۳)و النسائی (۱۳ و الکبری: ۹۸۴۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد ۲ / ۵۲۰) و النسائی (۳۵۸) و الحاکم ۱ ۵۱۷) و فتح الباری (۱۱ / ۵۰۱)۔