Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2332 (مشکوۃ المصابیح)

[2332] رواہ مسلم (2747/7)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَلَّہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِہِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْہِ مِنْ أَحَدِكُمْ كانَ رَاحِلَتُہُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَيْہَا طَعَامُہُ وَشَرَابُہُ فَأَيِسَ مِنْہَا فَأَتَی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّہَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِہِ فَبَيْنَمَا ہُوَ كذلكَ إِذ ہُوَ بِہَا قَائِمَةً عِنْدَہُ فَأَخَذَ بِخِطَامِہَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللہُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ . رَوَاہُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ اپنے بندے کی توبہ سے،جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے،اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے،جس کی سواری کسی جنگل بیاباں میں اس سے دور بھاگ گئی ہو،جب کہ اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اس پر تھا،وہ سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ گیا کیونکہ وہ اپنی سواری سے تو مایوس ہو چکا تھا،وہ اسی کرب میں تھا کہ اچانک دیکھتا ہے کہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے،اس نے اس کی مہار تھامی،پھر شدت فرحت سے کہا: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں،اور شدت فرحت کی وجہ سے وہ غلط کہہ بیٹھا۔‘‘ رواہ مسلم۔