Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2355 (مشکوۃ المصابیح)
[2355] إسنادہ ضعیف جدًا منکر، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (7905، نسخۃ محققۃ: 7526) ٭ فیہ محمد بن جابر بن أبي عیاش المصیصي، قال الذہبي: ’’لا أعرفہ و خبرہ منکر جدًا‘‘ (میزان الاعتدال 396/3) والفضل بن محمد بن عبد اللہ بن الحارث بن سلیمان الانطاکي مجروح متھم .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُہُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ فَإِذَا لَحِقَتْہُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْہِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيہَا وَإِنَّ اللہَ تَعَالَی لَيُدْخِلُ عَلَی أَہْلِ الْقُبُورِ مِنْ دُعَاءِ أَہْلِ الْأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ وَإِنَّ ہَدِيَّةَ الْأَحْيَاءِ إِلَی الْأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَہُمْ)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میت قبر میں،ڈوبتے ہوئے فریاد کرنے والے کی طرح ہے،وہ باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے پہنچنے والی دعا کی منتظر رہتی ہے،جب وہ اسے پہنچ جاتی ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتی ہے،اور بے شک اللہ تعالیٰ (دنیا) والوں کی دعاؤں سے اہل قبور پر پہاڑوں جتنی رحمتیں نازل فرماتا ہے،اور زندوں کا مردوں کے لئے تحفہ ان کے لئے مغفرت طلب کرنا ہے۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا منکر،رواہ البیھقی۔