Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2379 (مشکوۃ المصابیح)

[2379] حسن، رواہ أحمد (279/5 ح 22764) [والطبراني فی الأوسط (139/2 ح 1262) و عندہ میمون (بن عجلان الثقفي) أبو محمد المزني التمیمي: لا یعرف، کما فی المیزان و اللسان (165/6) و مع ذلک و ثقہ الھیثمي، و میمون بن عجلان لعلہ عطاء بن عجلان: أحد المتروکین، وھو تدلیس عجیب .] ٭ و فی المسند میمون غیر منسوب و لعلہ میمون بن موسی المري و صرح بالسماع عند أحمد فالسند حسن . واللہ أعلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللہِ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ لجبريل: إِن فلَانا عَبدِي يتلمس أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْہِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللہِ عَلَی فُلَانٍ وَيَقُولُہَا حَمَلَةُ العرشِ ويقولُہا مَن حَولہمْ حَتَّی يَقُولُہَا أَہْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَہْبِطُ لَہُ إِلی الأَرْض . رَوَاہُ أَحْمد

ثوبان ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بندہ اللہ کی رضا مندی تلاش کرتا ہے،وہ اسی کوشش میں لگا رہتا ہے تو اللہ عزوجل جبرائیل سے فرماتا ہے: میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے،سن لو میری رحمت اس پر ہے،تو جبرائیل فرماتے ہیں: اللہ کی رحمت فلاں شخص پر ہے،پھر حاملین عرش یہی کہتے ہیں اور پھر ان کے آس پاس والے یہی کہتے ہیں،حتیٰ کہ ساتوں آسمان والے یہی اعلان کرتے ہیں،پھر اس کی وجہ سے وہ (رحمت) زمین پر اترتی ہے۔‘‘ حسن،رواہ احمد۔