Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2411 (مشکوۃ المصابیح)

[2411] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ الترمذي (3523) ٭ الحکم بن ظھیر: رمي بالرفض و اتھمہ ابن معین .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُول اللہ مَا أَنَام من اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ فَقَالَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَی فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللہُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّہِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَہَ غَيْرُكَ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ ہَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُہُ بِالْقَوِيّ والحكَمُ بن ظُہيرٍ الرَّاوِي قد ترَكَ حديثَہُ بعضُ أہل الحَدِيث

بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں،خالد بن ولید ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بے خوابی کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتا،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جب تم اپنے بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو:’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے ان کے رب! زمینوں اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے ان کے رب! شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے،یہ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے،مجھے پناہ دینے والا ہو جا،تجھ سے پناہ لینے والا غالب آتا ہے،تیری ثنا و تعریف بہت زیادہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ ترمذی،اور فرمایا اس روایت کی اسناد قوی نہیں۔حکم بن ظہیر راوی کی احادیث کو بعض محدثین نے ترک کیا ہے۔اسنادہ ضعیف جذا،رواہ الترمذی۔