Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2443 (مشکوۃ المصابیح)
[2443] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (5095) والترمذي (3426 وقال: حسن صحیح غریب) ٭ ابن جریج: لم یثبت تصریح سماعہ في ھذا الحدیث و رواہ عبد المجید بن عبد العزیز عنہ قال: ’’حدثت عن إسحاق‘‘ [وفی الموارد (2375) وھم، انظر الإحسان (819)]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِہِ فَقَالَ: بِسْمِ اللہِ تَوَكَّلْتُ عَلَی اللہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ يُقَالُ لَہُ حِينَئِذٍ ہُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ فَيَتَنَحَّی لَہُ الشَّيْطَانُ وَيَقُولُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وروی التِّرْمِذِيّ إِلی قَوْلہ: ((الشَّيْطَان))
انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب آدمی گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:’’اللہ کے نام کے ساتھ،میں نے اللہ پر توکل کیا،گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے۔‘‘ تو تب اسے کہا جاتا ہے: تیری راہنمائی کر دی گئی،تجھے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا۔شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے،اور دوسرا شیطان کہتا ہے: تمہارا ایسے آدمی پر کیسے زور چل سکتا ہے جس کی راہنمائی کر دی گئی،اسے کفایت کر دی گئی اور اسے بچا لیا گیا۔‘‘ ابوداؤد۔اور امام ترمذی نے ((لہ الشیطان)) تک روایت کیا ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد و الترمذی۔