Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2495 (مشکوۃ المصابیح)
[2495] إسنادہ صحیح، رواہ الترمذي (3578) ٭ ھذا الحدیث یدل علی التوسل بدعاء الصالحین الأحیاء و لا یدل علی التوسل بالأموات فافھمہ فإنہ مھم .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن عثمانَ بنِ حُنَيفٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ادْعُ اللہَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَہُوَ خَيْرٌ لَكَ)) . قَالَ: فَادْعُہُ قَالَ: فَأَمَرَہُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ الْوُضُوءَ وَيَدْعُو بِہَذَا الدُّعَاءِ: ((اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّہْتُ بِكَ إِلَی رَبِّي لِيَقْضِيَ لِي فِي حَاجَتِي ہَذِہِ اللہُمَّ فشفّعْہ فيَّ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
عثمان بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں،ایک نابینا شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا،اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم چاہو تو میں دعا کرتا ہوں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔‘‘ اس نے عرض کیا،آپ اللہ سے دعا فرمائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ خوب اچھی طرح وضو کرے اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرے:’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی،نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں،بے شک میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اپنے رب کی طرف توجہ کی تاکہ میری اس حاجت کے بارے میں میرے حق میں فیصلہ کیا جائے،اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔‘‘ ترمذی۔اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ الترمذی۔