Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2494 (مشکوۃ المصابیح)
[2494] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (34/1 ح 223) والترمذي (3173) ٭ یونس بن سلیم: مجھول، و قال النسائي فی الکبری (1439): ’’ھذا حدیث منکر و یونس بن سلیم لا نعرفہ‘‘ و صححہ الحاکم (535/1، 392/4) فتعقبہ الذہبي .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْہِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْہِہِ دوِي كَدَوِيِّ النَّحْل فأنل عَلَيْہِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْہُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْہِ وَقَالَ: ((اللہُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُہِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا)) . ثُمَّ قَالَ: ((أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَہُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ)) ثُمَّ قَرَأَ: (قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ) حَتَّی خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ. رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں،جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرے کے پاس شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی،ایک روز آپ پر وحی نازل ہوئی تو ہم نے تھوڑی دیر انتظار کیا،آپ سے وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یوں دعا کی:’’اے اللہ! ہمیں زیادہ کر،کم نہ کر،ہمیں عزت عطا کرنا،ذلیل نہ کرنا،ہمیں عطا کرنا،محروم نہ رکھنا،ہمیں ترجیح دینا اور ہمارے خلاف کسی کو ترجیح نہ دینا،ہمیں راضی کر اور ہم سے راضی ہو جا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں،جو ان کی حفاظت و خیال کرے گا جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ پھر آپ نے (قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ) سے دس آیات تلاوت فرمائی۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد و الترمذی۔