Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2497 (مشکوۃ المصابیح)
[2497] حسن، رواہ النسائي (75/3 ح 1307) [و صححہ ابن حبان: 509]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيہِ قَالَ: صَلَّی بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيہَا فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ وَأَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَا عَلَيَّ ذَلِكَ لَقَدْ دَعَوْتُ فِيہَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ہُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّہُ كَنَّی عَنْ نَفْسِہِ فَسَأَلَہُ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِہِ الْقَوْمَ: ((اللہُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ علی الخَلقِ أَحْيني مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللہُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّہَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَی وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَی وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَی بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَی وَجْہِكَ وَالشَّوْقِ إِلَی لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللہُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا ہُدَاةً مَہْدِيِّينَ)) . رَوَاہُ النَّسَائِيُّ
عطا بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا: عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار کیا تو کچھ لوگوں نے انہیں کہا: آپ نے نماز میں تخفیف اور اختصار کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا،میں نے اس میں کچھ دعائیں کی ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں،جب وہ (جانے کے لئے) کھڑے ہوئے تو ان لوگوں میں سے ایک آدمی،وہ میرے والد ہی تھے لیکن انہوں نے اپنا نام چھپائے رکھا،ان کے پیچھے پیچھے گیا اور ان سے دعا کے متعلق دریافت کیا،پھر واپس آ کر اسے لوگوں کو بتایا:’’اے اللہ! اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے ذریعے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میرا زندہ رہنا تیرے علم کے مطابق میرے لئے بہتر ہو۔اور جب تو سمجھے کہ میرا فوت ہونا میرے لئے بہتر ہے تو مجھے فوت کر دینا،اے اللہ! میں غیب و حاضر میں تجھ سے کلمہ حق کا سوال کرتا ہوں،میں فقر و غنی میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں،میں ختم نہ ہونے والی نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں،میں منقطع نہ ہونے والی آنکھوں کی ٹھنڈک کا تجھ سے سوال کرتا ہوں،میں قضا کے بعد رضا کا تجھ سے سوال کرتا ہوں،میں موت کے بعد خوشگوار زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں،میں کسی شدید تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے بغیر تیری ملاقات کے شوق اور تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں،اے اللہ! زینت ایمان سے ہمیں مزین فرما اور ہمیں ہدایت پر ثابت رہنے والے ہادی بنا۔‘‘ حسن،رواہ النسائی۔