Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2560 (مشکوۃ المصابیح)
[2560] رواہ مسلم (1211/130)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَہُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللہِ أَدْخَلَہُ اللہُ النَّارَ. قَالَ: ((أَو مَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا ہُمْ يَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْہَدْيَ مَعِي حَتَّی أَشْتَرِيَہُ ثمَّ أُحلُّ كَمَا حلُّوا)) . رَوَاہُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو مکہ پہنچے تھے،آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصہ کی حالت میں تھے۔میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! آپ کو کس نے ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کا حکم دیا ہے جبکہ وہ تردد کا شکار ہیں۔جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا حتی کہ میں اسے یہاں سے خرید لیتا،پھر میں بھی احرام کھول دیتا جیسے انہوں نے احرام کھولا ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔