Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2580 (مشکوۃ المصابیح)

[2580] حسن، رواہ الترمذي (959 وقال: حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عُبيدِ بنِ عُمَيرٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَی الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ يُزَاحِمُ عَلَيْہِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((إِنَّ مَسْحَہُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا)) وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((مَنْ طَافَ بِہَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاہُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ)) . وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَی إِلا حطَّ اللہُ عنہُ بہَا خَطِيئَة وكتبَ لہُ بہَا حَسَنَة)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر بہت زیادہ غلبہ (رش) کرتے تھے،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی ایک صحابی کو ان پر غلبہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا،انہوں نے فرمایا: میں اس لیے ایسے کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ان دونوں کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جو شخص ہر ہفتے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کی حفاظت کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جب وہ (طواف میں) ایک قدم رکھتا ہے اور دوسرا اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔‘‘ حسن،رواہ الترمذی۔