Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2582 (مشکوۃ المصابیح)
[2582] سندہ ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (140/7۔ 141 ح 1921) و أحمد (421/6) ٭ سندہ ضعیف عبد اللہ بن المؤمل ضعیف و لہ طریق آخر عند الدارقطني (255/2) والبیھقي (97/5) بلفظ: دخلنا دار ابن أبي حسین فاطلعنا من باب مقطع فرأینا رسول اللہ ﷺ یشتد فی المسعی حتی إذا بلغ زقاق بني فلان موضعًا قد سماہ من المسعي، استقبل الناس و قال: ’’یا أیھا الناس اسعوا فإن المسعی قد کتبت علیکم‘‘ و سندہ حسن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن صفيةَ بنتِ شيبةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تُجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ يَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُہُ يَسْعَی وَإِنَّ مِئْزَرَہُ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((اسْعَوْا فَإِنَّ اللہَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ)) . رَوَاہُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاہُ أَحْمد مَعَ اخْتِلَاف
صفیہ بنت شیبہ ؓ بیان کرتی ہیں،ابوتجراہ کی بیٹی (حبیبہ ؓ) نے مجھے بتایا کہ میں قریش کی بعض عورتوں کے ساتھ خاندانِ ابوحسین کے گھر گئی تاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے مابین سعی کرتے ہوئے دیکھیں،میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور سعی کی شدت کی وجہ سے آپ کا ازار بکھر رہا تھا،اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سعی کرنا تم پر فرض کر دیا ہے۔‘‘ شرح السنہ،اور امام احمد نے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔سندہ ضعیف،رواہ شرح السنہ و احمد۔