Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2611 (مشکوۃ المصابیح)
[2611] صحیح، رواہ الترمذي (886 وقال: حسن صحیح) [و أبو داود (1944) والنسائي (258/5 ح 3024) وانظر ابن ماجہ (3023)] ٭ و للحدیث شواھد وھو بھا صحیح .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْہِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَہُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ وَقَالَ: ((لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي ہَذَا)) . لَمْ أَجِدْ ہَذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تقديمٍ وَتَأْخِير
جابر ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سکینت و اطمینان تھا،اور آپ نے صحابہ کو بھی آرام سے چلنے کا حکم فرمایا،جبکہ وادی محسر میں آپ تیز چلے اور انہیں حکم فرمایا کہ انگلی پر رکھ کر ماری جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارو،اور فرمایا:’’شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ دیکھ سکوں۔‘‘ میں نے یہ حدیث تقدیم و تاخیر کے ساتھ جامع ترمذی کے علاوہ صحیحین میں نہیں پائی۔صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ۔