Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2617 (مشکوۃ المصابیح)

[2617] رواہ البخاري (1662)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ابنِ شہابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللہِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَہَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّہُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولَ اللہِ ﷺ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَہل يتَّبعونَ فِي ذلكَ إِلا سنَّتَہ؟ رَوَاہُ البُخَارِيّ

ابن شہاب بیان کرتے ہیں،سالم نے مجھے بتایا کہ جس سال حجاج بن یوسف،ابن زبیر کے مدمقابل آیا تو اس نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا،ہم عرفہ کے دن وقوف میں (نمازوں کا) کیا کریں؟ سالم نے کہا: اگر تم سنت کی اتباع کرنا چاہتے ہو تو پھر عرفہ کے دن نماز کو جلدی پڑھو،عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے،وہ ظہر و عصر کو سنت کے مطابق ہی جمع کیا کرتے تھے۔میں نے سالم سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا؟ تو سالم نے کہا: وہ (صحابہ ؓ) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہی کی اتباع کرتے ہیں۔رواہ البخاری۔