Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2661 (مشکوۃ المصابیح)
[2661] رواہ البخاري (1751۔ 1752)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن سالمٍ عَن ابنِ عمر: أَنَّہُ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ علی إِثْرَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّی يُسْہِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْہِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَی بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَی بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْہِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْہِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَہَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: ہَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَفْعَلہ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
سالم ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جمرہ دنیا (مسجد خفیف کے قریب والے جمرہ کو) سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے تھے،پھر آگے بڑھتے حتی کہ نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے،پھر بائیں جانب ہو کر نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعائیں کرتے رہتے،پھر درمیان والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے جب کنکری مارتے تو اللہ اکبر کہتے تھے پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبی کو سات کنکریاں مارتے،آپ ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے،آپ اس کے پاس نہ ٹھہرتے پھر واپس آ جاتے اور فرماتے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔رواہ البخاری۔