Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2670 (مشکوۃ المصابیح)
[2670] إسنادہ حسن، رواہ ابن ماجہ (3055) و الترمذي (2159)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ((أَيُّ يَوْمٍ ہَذَا؟)) قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ ہَذَا فِي بَلَدِكُمْ ہَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَی نَفْسِہِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَی وَلَدِہِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ ہَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لہُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَی بِہِ)) . رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححہُ
عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا:’’آج کون سا دن ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: حج اکبر کا دن ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں،تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں،سن لو! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے،سن لو! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے،سن لو! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو،لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو،اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا۔‘‘ ابن ماجہ،ترمذی۔اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اسناد حسن،رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔