Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2676 (مشکوۃ المصابیح)

[2676] إسنادہ حسن، رواہ أبو دا ود (1973)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ آخِرِ يَوْمِہِ حِينَ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مِنًی فَمَكَثَ بِہَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَی وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَہَا. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا،پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے،آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں،جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے،ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے،پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے،لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے،اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔