Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2715 (مشکوۃ المصابیح)
[2715] متفق علیہ، رواہ البخاري (1834) و مسلم (1353/445)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ((لَا ہِجرةَ وَلَكِنْ جِہَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا)) . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ((إِنَّ ہَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَہُ اللہُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَہُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللہِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّہُ لَمْ يحِلَّ القتالُ فيہِ لأحدٍ قبْلي وَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَہَارٍ فَہُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللہِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُہُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُہُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُہُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَہَا وَلَا يُخْتَلَی خَلَاہَا)) . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقَيْنِہِمْ وَلِبُيُوتِہِمْ؟ فَقَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ))
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا:’’(اب) ہجرت باقی نہیں رہی،لیکن جہاد اور نیت باقی ہے،جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکلو۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا:’’اللہ نے اس شہر کو زمین و آسمان کی تخلیق کے روز ہی حرام قرار دے دیا تھا،وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے روز قیامت تک حرام ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اس میں قتال کرنا حلال نہیں کیا گیا،اور میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال کیا گیا،وہ اللہ کی حرمت کے باعث روز قیامت تک کے لیے حرام ہے۔اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کا شکار بھگایا جائے،اور نہ ہی اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے،اور نہ ہی اس کی گھاس کاٹی جائے۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! بجز اذخر (گھاس) کے،کیونکہ وہ لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بجز اذخر (گھاس) کے۔‘‘ متفق علیہ۔