Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2714 (مشکوۃ المصابیح)

[2714] إسنادہ صحیح، رواہ الترمذي (889) و أبو داود (1949) و النسائي (264/5 ح 3047) و ابن ماجہ (3015) و الدارمي (59/2ح 1894)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: ((الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنیً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْہِ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ہَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ

عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’حج وقوفِ عرفات ہی ہے،جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا،اور منیٰ کے ایام تین ہیں،جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔‘‘ ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔