Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2728 (مشکوۃ المصابیح)
[2728] متفق علیہ، رواہ البخاري (1870) و مسلم (467 /1370)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي ہَذِہِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: ((الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيہِ فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عدل)) وَفِي رِوَايَةٍ لَہُمَا: ((مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيہِ أَوْ تَوَلَّی غَيْرَ مَوَالِيہِ فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صرف وَلَا عدل))
علی ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف قرآن اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے وہ لکھا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے،جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ،تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اس کی نفل عبادت قبول ہو گی نہ فرض۔مسلمانوں کی امان ایک ہی ہے،اور اس میں ادنی مسلمان کی امان کی بھی برابر حیثیت ہے،جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے تو اس پر اللہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض،اور جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اور اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض۔‘‘ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے:’’جو شخص اپنے آپ کو باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر لے یا اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اس سے نفل قبول ہو گا نہ فرض۔‘‘ متفق علیہ۔