Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2729 (مشکوۃ المصابیح)
[2729] رواہ مسلم (1363/459)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاہُہَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُہَا وَقَالَ: ((الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَہُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُہَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْہَا إِلَّا أَبْدَلَ اللہُ فِيہَا مَنْ ہُوَ خَيْرٌ مِنْہُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِہَا وَجَہْدِہَا إِلَّا كُنْتُ لَہُ شَفِيعًا أَو شَہِيدا يَوْم الْقِيَامَة)) . رَوَاہُ مُسلم
سعد ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں مدینہ کے دونوں پتھریلے مقاموں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں،اور اس علاقے کا درخت کاٹنا یا اس کا شکار قتل کرنا حرام ہے۔‘‘ اور فرمایا:’’مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے،اگر کوئی شخص اس سے عدم رغبت کی وجہ سے اسے چھوڑ جائے گا تو اللہ اس میں اس کے بدلہ میں ایسے شخص کو آباد کرے گا،جو اس سے بہتر ہو گا،اور جو شخص اس کی بھوک اور تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘ رواہ مسلم۔