Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2747 (مشکوۃ المصابیح)
[2747] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (2037) ٭ سلیمان بن أبي عبد اللہ مجھول الحال لم یوثقہ غیر ابن حبان .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللہِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَسَلَبَہُ ثِيَابَہُ فَجَاءَہُ مَوَالِيہِ فَكَلَّمُوہُ فِيہِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ حَرَّمَ ہَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: ((مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيہِ فَلْيَسْلُبْہُ)) . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دفعتُ إِليكم ثمنَہ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں،میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں،جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے،شکار کر رہا تھا،انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا،تو اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے فرمایا:’’جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کا کپڑا سلب کر لے۔‘‘ لہذا میں یہ رزق تمہیں واپس نہیں دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے،لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں ادا کر دیتا ہوں۔سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔