Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2771 (مشکوۃ المصابیح)

[2771] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (387/1ح 3672 مطولاً) والبغوي في شرح السنۃ (10/8 ح 2030) ٭ فیہ الصباح بن محمد: ضعیف و لبعضہ شاھد ضعیف عند الحاکم (334/1، 335) و صححہ ووافقہ الذہبي .!

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ: ((لَا يكْسب عبد مَال حرَام فتيصدق مِنْہُ فَيُقْبَلُ مِنْہُ وَلَا يُنْفِقُ مِنْہُ فَيُبَارَكُ لَہُ فِيہِ وَلَا يَتْرُكُہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ إِلَّا كَانَ زَادَہُ إِلَی النَّارِ. إِنَّ اللہَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي شرح السّنة

عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص حرام مال کھاتا ہے اور پھر اس سے صدقہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہوتا،اور وہ اس میں سے جو خرچ کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں کی جاتی،اور اگر وہ اسے ترکہ میں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے،کیونکہ اللہ برائی کے ذریعے برائی ختم نہیں کرتا بلکہ وہ نیکی کے ذریعے برائی ختم کرتا ہے اور خبیث،خبیث کو ختم نہیں کرتا۔‘‘ احمد،شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد۔