Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2774 (مشکوۃ المصابیح)

[2774] سندہ ضعیف، رواہ أحمد (228/4 ح 18164، 18169) والدارمي (245/2۔ 246 ح 2536) ٭ فیہ أیوب بن عبد اللہ بن مکرز: مستور، والزبیر أبو عبد السلام لم یسمع ھذا الحدیث من أیوب بن عبد اللہ بن مکرز، و في سماع أیوب من وابصۃ نظر، و أبو عبد السلام مجھول الحال، وثقہ ابن حبان وحدہ، فالسند ضعیف مظلم بطولہ، و حدیث مسلم (2553) یغني عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن وابصَةَ بن مَعْبدٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: ((يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَہُ فَضَرَبَ صَدْرَہُ وَقَالَ: ((اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ)) ثَلَاثًا ((الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْہِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْہِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ والدارمي

وابصہ بن معبد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’وابصہ! تم نیکی اور گناہ کی تعریف پوچھنے آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا،جی ہاں،راوی بیان کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اکٹھی کیں اور میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا:’’اپنے نفس سے پوچھو،اپنے دل سے پوچھو۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا۔اور پھر فرمایا:’’نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو جائے،جبکہ گناہ یہ ہے کہ وہ تیرے نفس میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا کرے اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیں۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ احمد و الدارمی۔