Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2814 (مشکوۃ المصابیح)

[2814] متفق علیہ، رواہ البخاري (2312) و مسلم (1594/96)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: ((مِنْ أَيْنَ ہَذَا؟)) قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْہُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ: ((أَوَّہْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمرَ ببَيْعٍ آخر ثمَّ اشْتَرِ بِہِ))

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں،بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا:’’یہ کہاں سے لائے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’افسوس! افسوس! یہ تو بالکل سود ہے،بالکل سود ہے،ایسے نہ کرو،بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو،پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو۔‘‘ متفق علیہ۔