Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2813 (مشکوۃ المصابیح)
[2813] متفق علیہ، رواہ البخاري (2201) و مسلم (1593/95)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَاءَہُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: ((أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ ہَكَذَا؟)) قَالَ: لَا وَاللہِ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ ہَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ فَقَالَ: ((لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاہِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاہِمِ جَنِيبًا)) . وَقَالَ: ((فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ))
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا،تو وہ اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا،نہیں،اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! ہم دو صاع کے بدلے یہ ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاع لے لیتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ایسے نہ کیا کرو،ساری کھجوریں درہموں کے حساب سے بیچ دیا کرو اور پھر درہموں کے بدلے عمدہ قسم کی کھجوریں خرید لیا کرو۔‘‘ اور فرمایا:’’وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں بھی یہی اصول ہے۔‘‘ متفق علیہ۔