Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2847 (مشکوۃ المصابیح)
[2847] متفق علیہ، رواہ البخاري (2150) و مسلم (1412/11) [و الروایۃ الثانیۃ (1524/25) و ذکرہا البغوي في مصابیح السنۃ (2080)]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمِنِ ابْتَاعَہَا بَعْدَ ذَلِكَ فَہُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يحلبَہا: إِنْ رَضِيَہَا أَمْسَكَہَا وَإِنْ سَخِطَہَا رَدَّہَا وَصَاعًا مِنْ تمر وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مَنِ اشْتَرَی شَاةً مُصَرَّاةً فَہُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ: فَإِنْ رَدَّہَا رَدَّ مَعہَا صَاعا من طَعَام لَا سمراء
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بیع کے لیے تجارتی قافلے کو (شہر سے باہر جا کر) نہ ملو،کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے،بلا ارادہ خرید،محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ دو،کوئی شہری،دیہاتی کے لیے کوئی مال فروخت نہ کرے،اونٹنی اور بکری کا دودھ نہ روکو،اگر کوئی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو دودھ دھونے کے بعد اسے دونوں اختیار حاصل ہیں: اگر وہ اس پر راضی ہو تو اسے رکھ لے اور اگر راضی نہ ہو تو اسے واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔‘‘ بخاری،مسلم۔اور مسلم کی روایت میں ہے:’’جو شخص ایسی بکری خریدے جس کا دودھ روکا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے،اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھانے کا بھی واپس کرے لیکن وہ گندم نہ ہو۔‘‘ متفق علیہ۔