Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2860 (مشکوۃ المصابیح)
[2860] رواہ مسلم (102/164)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ مَرَّ عَلَی صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَہُ فِيہَا فَنَالَتْ أَصَابِعُہُ بَلَلًا فَقَالَ: ((مَا ہَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟)) قَالَ: أَصَابَتْہُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((أَفَلَا جَعَلْتَہُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّی يَرَاہُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مني)) . رَوَاہُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیاں نم ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اناج والے! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس پر بارش ہو گئی تھی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ جان لیتے،(جان لو) جس شخص نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘ رواہ مسلم۔