Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2908 (مشکوۃ المصابیح)

[2908] متفق علیہ، رواہ البخاري (457) ومسلم (1558/20)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَہُ عَلَيْہِ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتَّی سَمِعَہَا رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي بَيْتِہِ فَخَرَجَ إِلَيْہِمَا رَسُولَ اللہِ ﷺ حَتَّی كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہِ وَنَادَی كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: ((يَا كَعْبُ)) قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ فَأَشَارَ بِيَدِہِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((قُمْ فاقضہ))

کعب بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ابن ابی حدرد ؓ سے مسجد میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں حتی کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنے گھر میں سن لیا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف آئے حتی کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک ؓ کو آواز دی،فرمایا:’’کعب!‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! حاضر ہوں،آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کا آدھا قرض معاف کر دو۔کعب ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کر دیا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ابن ابی حدرد ؓ سے) فرمایا:’’کھڑا ہو اور اس کا قرض ادا کر۔‘‘ متفق علیہ۔