Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2909 (مشکوۃ المصابیح)
[2909] رواہ البخاري (2289)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن سَلمَة بن الْأَكْوَع قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْہَا فَقَالَ: ((ہَلْ عَلَيْہِ دَيْنٌ؟)) قَالُوا: لَا فَصَلَّی عَلَيْہَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَی فَقَالَ: ((ہَل عَلَيْہِ دين؟)) قَالُوا: نعم فَقَالَ: ((فَہَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟)) قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلَّی عَلَيْہَا ثمَّ أُتِي بالثالثة فَقَالَ: ((ہَلْ عَلَيْہِ دَيْنٌ؟)) قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ قَالَ: ((ہَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟)) قَالُوا: لَا قَالَ: ((صلوا علی صَاحبكُم)) قَالَ أَبُو قَتَادَة: صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم عَلَيْہِ يَا رَسُولَ اللہِ وَعَلَيَّ دَيْنُہُ فَصَلَّی عَلَيْہِ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا،صحابہؓ نے عرض کیا: اس کی نماز جنازہ پڑھائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا اس پر کوئی قرض ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،پھر آپ کے پاس ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا اس پر کوئی قرض ہے؟‘‘ عرض کیا گیا: جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا اس نے کوئی چیز ترکہ چھوڑی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: تین دینار،آپ نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی،پھر تیسرا جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا اس پر کوئی قرض ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: تین دینار،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: نہیں،فرمایا:’’اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘ ابوقتادہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور اس کا قرض میرے ذمہ رہا (میں ادا کروں گا) تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔رواہ البخاری۔