Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2913 (مشکوۃ المصابیح)
[2913] متفق علیہ، رواہ البخاري (2298) و مسلم (1619/14)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُؤْتَی بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّی عَلَيْہِ الدِّينُ فَيَسْأَلُ: ((ہَلْ تَرَكَ لِدَيْنِہِ قَضَاءً؟)) فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّہُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّی وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: ((صَلُّوا عَلَی صَاحِبِكُمْ)) . فَلَمَّا فَتَحَ اللہُ عَلَيْہِ الْفُتُوحَ قَامَ فَقَالَ: ((أَنَا أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ فَمَنْ تُوفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دينا فعلي قَضَاؤُہُ وَمن ترك فَہُوَ لوَرثَتہ))
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،کسی مقروض کا جنازہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:’’کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس سے قرض ادا ہو جائے گا تو آپ نمازِ جنازہ پڑھاتے،ورنہ (نہ پڑھاتے) مسلمانوں سے کہتے:’’اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتوحات نصیب فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’میں مومنوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں،جو مومن فوت ہو جائے اور وہ مقروض ہو تو اس کا قرض میرے ذمہ ہے،اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اُس کے ورثا کے لیے ہے۔‘‘ متفق علیہ۔