Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2918 (مشکوۃ المصابیح)

[2918] إسنادہ ضعیف، ذکرہ في منتقی الأخبار (2996) ٭ السند مرسل و رواہ الحاکم (58/2 ح 2348، 273/3 ح 5192) من حدیث الزھري عن عبد الرحمٰن بن کعب عن أبیہ و صححہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبي، قلت: فیہ الزھري مدلس و عنعن و الصواب فیہ أنہ مرسل .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا سَخِيًّا وَكَانَ لَا يُمْسِكُ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ يُدَانُ حَتَّی أَغَرَقَ مَالَہُ كُلَّہُ فِي الدَّيْنِ فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَكَلَّمَہُ لِيُكَلِّمَ غُرَمَاءَہُ فَلَوْ تَرَكُوا لِأَحَدٍ لَتَرَكُوا لِمُعَاذٍ لِأَجْلِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَبَاعَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم مَالَہُ حَتَّی قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. رَوَاہُ سعيد فِي سنَنہ مُرْسلا

عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں،معاذ بن جبل ؓ بڑے صابر اور سخی انسان تھے،وہ کوئی چیز پاس نہیں رکھتے تھے اور ہمیشہ مقروض رہتے تھے حتی کہ ان کا سارا مال قرض کی ادائیگی میں جاتا رہا،وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ اس کے قرض خواہوں سے سفارش کریں،اگر وہ (قرض خواہ) کسی کو چھوڑتے تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر معاذ کو چھوڑتے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان (قرض خواہوں) کی خاطر معاذ ؓ کا سارا مال بیچ دیا،حتی کہ معاذ کے پاس کوئی چیز نہ بچی۔سنن سعید بن منصور،یہ روایت مرسل ہے۔اسنادہ ضعیف۔