Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2920 (مشکوۃ المصابیح)

[2920] إسنادہ ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (213/8۔ 214 ح 2155) [والدارقطني (78/3 ح 3063) والبیھقي (73/6)] ٭ فیہ عبید اللہ بن الولید الوصافي (ضعیف) عن عطیۃ بن سعد العوفي (ضعیف مدلس) عن أبي سعید بہ و قال البیھقي في عبید اللہ: ’’ھو ضعیف جدًا‘‘.

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَی النَّبِيُّ ﷺ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْہَا فَقَالَ: ((ہَلْ عَلَی صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟)) قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: ((ہَلْ تَرَكَ لَہُ مِنْ وَفَاءٍ؟)) قَالُوا: لَا قَالَ: ((صَلُّوا عَلَی صَاحِبِكُمْ)) قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: عَلَيَّ دَيْنُہُ يَا رَسُولَ اللہِ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی عَلَيْہِ. وَفِي رِوَايَةٍ مَعْنَاہُ وَقَالَ: ((فَكَّ اللہُ رِہَانَكَ مِنَ النَّارِ كَمَا فَكَكْتَ رِہَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقْضِي عَنْ أَخِيہِ دَيْنَہُ إِلَّا فَكَّ اللہُ رِہَانَہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) . رَوَاہُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تمہارے ساتھی پر قرض ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا:’’کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی مال چھوڑا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: نہیں،فرمایا:’’تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔‘‘ علی بن ابی طالب ؓ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے ذمے رہا،تو پھر آپ آگے بڑھے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی،اور ایک دوسری روایت میں اسی کا ہم معنی مفہوم روایت کیا گیا ہے،اور فرمایا:’’اللہ نے تمہاری گردن کو آگ سے آزاد کر دیا جیسے تم نے اپنے مسلمان بھائی کی گردن کو آزاد کرا دیا۔جو کوئی مسلمان بندہ اپنے بھائی کی طرف سے اس کا قرض ادا کرتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی گردن کو (آگ سے) آزاد فرمائے گا۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ فی شرح السنہ۔